شاہراہ ریشم(Karakaram Highway) ( مختصر تعارف)

0
32
شاہراہ ریشم(Karakaram Highway) ( مختصر تعارف)
شاہراہ ریشم(Karakaram Highway) ( مختصر تعارف)

شاہراہ ریشم(Karakaram Highway)
( مختصر تعارف)

اس شاہراہ کو قراقرم ہائی وے(قراقرم ترکی زبان کا لفظ ہے قرا کا مطلب سیاہ اور قرم کا مطلب بھربھری چٹانیں) یا KKH کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہےاس شاہراہ کی کل لمبائی 1300کلومیٹر ہے۔ تقریبا 850کلومیٹر پاکستان اور 450 کلومیٹر کا حصہ چین میں ہے- اسکا سب سے بلند راستہ خنجراب پاس ہے جسکی بلندی 4650میٹر ہے۔ اسکی تعمیر میں تقریبا 900 لوگوں کو جان کی بازی لگانی پڑی۔ جن میں 810 پاکستانی اور 85 کے قریب چینی شہری تھے۔ اس شاہراہ پر 99 بڑے پل اور تقریبا 1708 چھوٹے پل ہیں۔ اس سڑک کی تعمیر میں8 ہزار ٹن ڈائنا مائیٹ اور تقریبا 80 ملین کلوگرام سیمنٹ استعمال ہوئی۔

حسن ابدال سے مانسہرہ (105کلومیٹر)

ایبٹ آباد:
یہ شہر تفریحی مقامات اور پکنک پوائنٹ کے لحاظ سے مالامال ہے۔ یہاں کی مشہور جگہوں میں واٹر فال ۔ شملہ ہل، شوڑا ویلی، دھمتوڑ ، ٹھنڈیانی، میرا جانی ۔ ہرنو ، سمندر کھٹہ جھیل، چئر لفٹ(نواں شہر) ، ہر نوئی جھیل اور سجی کوٹ صحت افزا اور قابل دید مقامات ہیں۔ اور الیاسی مسجد کے پکوڑے بھی بہت مشہور ہیں۔
مانسہرہ:
مانسہرہ سے دو راستے الگ ہوتے ہیں ایک وادی کاغان کی طرف چلا جاتا ہے جبکہ دوسرا بشام کی طرف مڑ جاتا ہے۔ یہی بشام والا راستہ شاہراہ ریشم ہے۔

مانسہراہ سے شنکیاری(22کلومیٹر)

بفہ: پکھل کا مرکزی مقام ہے یہاں کا قدیم گاوں گلی باغ ہے جو کہ ترک حکمرانوں کا دارالحکومت تھا۔ اس دارالحکومت کی ایک تاریخی کھنڈر عمارت اب بھی موجود ہے۔ یہاں کا مشہور پکوان “کھواہ” ہے جو کہ خالص دودھ میں تیار ہوتا ہے۔

شنکیاری سے بٹگرام (56کلومیٹر)

بٹگرام سے تھاکوٹ (26km)

ضیاءالحق اور چینی نائب وزیراعظم نے اسی مقام پر قراقرم ہائی وے کا افتتاح کیا تھا۔

تھاکوٹ سے بشام (28km)

بشام سے پٹن (42km)

پٹن سے داسو(کومیلا) (40km)

داسو سے شتیال (52km)

شتیال سے چلاس (56km)

چلاس سے رائےکوٹ پل( 61km)

رائےکوٹ پل سے جگلوٹ ( 26km)
رائے کوٹ پل سے آگے اور تالیچی سے پہلے دائیں طرف نانگاپربت کا ویوپوائنٹ ہے۔ یہاں سے نانگا پربت کا بہت ہی صاف نظارہ ملتا ہے۔ ویو پوائنٹ کے قریب ہی گاشو پھوٹ جھیل کا ٹریک ہے۔
جلگوٹ سے گلگت 40km

گلگت سے ہنزہ (120km)

ہنزہ کے کنارے یوقوت جیسے قیمتی پتھر بکھرے پڑے ہوتے ہیں۔ پتھروں کے شوقین حضرات علی الصباح اس جگہ کو وزٹ کریں۔
علی آباد:
علی آباد ہنزہ کا جنرل بس سٹینڈ ہے۔ جبکی کریم آباد کچھ اونچائی پر 3km کے فاصلے پر ہے، جو کہ ہنزہ کا مرکزی علاقہ کہلاتا ہے۔

ہنزہ:
ہنزہ 900 سال سے ایک آزاد ریاست تھی۔ 1974 میں پاکستان کے ساتھ الحاق ہوا۔ 7000 میٹر سے بلند 4 چوٹیوں راکاپوشی، دیران، گولڈن پیک اور التر پیک ہنزہ کو باقی علاقوں سے منفرد بناتی ہے۔ ہنزہ کے پانی میں آئرن کی مقدار کے علاوہ سونے کے ذرات بھی پائے جاتے ہیں۔ یہاں کا ہاتھوں سے بنا ہوا اونی کپڑا پفو بہت مشہور ہے۔ یہاں خوبانی، آلو بخارہ، آڑو، انگور، سیب اور چیری کے باغات کثرت سے پائے جاتے ہیں۔
کریم آباد:
کریم آباد کا قدیم نام بلتت ہے، خشک میوہ جات، مقامی ملبوسات اور نگینوں کے حوالے سے یہ شہر بہت مشہور ہے۔ ہڈن پیراڈائز ہوٹل مقامی کھانوں کا سپیشلسٹ ہے، کیفے ڈی ہنزہ کے اٹالین کھانے اور والنٹ کیک آپ پوری زندگی نہیں بھلا پائیں گے۔ مقامی کیک Fittis بھی بہت اعلی پائے کا ہوتا ہے۔

گلمت سے پاسو (14km)
شش کوٹ کے نزدیک نوکیلی چٹانوں کا مجموعہ ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی بچے نے نوک والے پہاڑوں کی پینٹنگ بنائی ہو۔ یہ پسوکونز ہیں۔
بتورا، پاسو،کوک اور لیگر کی چوٹیاں سر کرنے کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے۔ وادی شمشال اور بتورا گلیشیئر کا آغازسفربھی یہیں سے ہے۔

پاسو سے سوست (26km)

سوست سے وادی مسغر (15km)
گوجال کا یہ علاقہ تاریخی نوادرات سے بھرا پڑا ہے۔ یہاں پر چین اور افغانستان کے کئی درے بھی ملتے ہیں۔ یہاں پر ایک ہے۔

وادی مسغر سے خنجراب ٹاپ (70km)

تمام معلومات کو مختلف گائیڈ بکس اور لوگوں کے تجربوں سے لی گئی ہے۔

پاکستان ہمارا گھر ہےاسےصاف رکھیں۔
پاکستان زندہ آباد

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here